توبہ کا دروازہ ابھی بھی کھلا ہے

اسلام وعلیکم!
بڑی مشکل ہے! بچے نہیں سنبھل رہے۔۔

میاں بھی تنگ کر رہے ہیں۔۔۔
ہائے کزن کی شادی کینسل ہو گئ!
ہائے فلاں ریستورانٹ بھی بند ہے!
ہائے! سلیم کی چاٹ کا دل ہورہا ہے۔۔۔
ہائے کیسا oلاک ڈاون ہے یہ!

یہ خیالات آپ کو تسلسل سے آتے ہونگے۔۔۔ایک بار صرف ایک بارمیرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شعب ابی طالب کی اس تنگ اور دشوار گزار گھاٹی کے 3 سال ضرور یاد کر لیجئے گا جہاں میرے آقا نے اپنے خاندان کے ساتھ سخت ترین سال گزارے۔۔
ان میں شیر خوار بچےبھی تھے۔۔عورتیں بھی اور بزرگ بھی۔۔
بھوک بھی تھی ۔۔۔افلاس بھی اور سماجی ترک تعلق بھی۔۔
عورتیں اور بچے جب بھوک یا گرمی سے روتے تو کفار مکہ قہقہے لگاتے۔۔صحرا کی گرمی بھی ان کے جوش ایمانی کو مانند نہ کرسکی۔۔
ایک ہم ہیں! راشن کا ذخیرہ ہے۔ بجلی بھی ہے۔ اے سی ، ٹی وی اور انٹرنیٹ کی عیاشی ہے۔ بچے بھوک بھوک کرتے ہیں تو انواع و قسم کے پکوان بنا رہے ہیں۔۔رشتہ داروں سے فون پر گپ شپ جاری ہے۔۔
یہ لاک ڈاون ہماری بھلائ کے لئے ہے
شعب ابی طالب میرے نبی کا امتحان تھا!
یہاں صرف غیر ضروری نکلنا منع ہے
شعب ابی طالب مکمل محاصرہ تھا!
اس سے بھی صبر نہ آئے تو کربلا کو یاد کر لیجئے گا!
کیسے کوفیوں نے دھوکہ دے کر بلایا اور پانی بند کردیا۔۔۔کس طرح چالیس دن کے محاصرے پر بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹا۔۔ننھے اصغر کے حلق میں جب نیزہ اترا ہوگا تو امام حسین پر کیا گزری ہوگی؟
یہ لاک ڈاون ہماری بقا ہے
کربلا دین اسلام کی بقا تھا!
کرونا ایک قدرتی آفت یا وبا ہے
کربلا حق و باطل کی جنگ تھی!
اگر یہ آزمائش ہے تو اللہ سے صبر مانگئے۔۔
اگر یہ عذاب ہے تب بھی میرے رب کا شکر ہے کے اس نے بھوکا پیاسا نہیں مارا صرف جھنجھوڑا ہے!
اشارہ دیا ہے۔۔
توبہ کا دروازہ ابھی بھی کھلا ہے!

    Choose :
  • OR
  • To comment
No comments:
Write Comments

thaks for comment us we will rply as soon as posible to you thanks